دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کا ڈیتھ زون

5
(1)

کے ٹو پر مہم جوئی: کے ٹو کا ’ڈیتھ زون‘ کیا ہے اور کوہ پیما وہاں کتنے گھنٹے زندہ رہ سکتے ہیں؟

منزہ انوار


آپ نے ’ایورسٹ‘ فلم کا وہ منظر تو دیکھا ہو گا جس میں نیوزی لینڈ کے گائیڈ اور کوہ پیما اینڈی ہیرس کے دماغ میں اچانک ہذیانی خیالات آنے لگتے ہیں اور وہ اپنے کپڑے اور گئیر سب اتار پھینکتا ہے اور موت کو گلے لگا لیتا ہے۔

کے ٹو کی بلندی 8611 میٹر ہے جو کہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ سے صرف دو سو میٹر کم ہے لیکن موسم سرما میں یہاں پر حالات جان لیوا ہو جاتے ہیں

آج سے چھ سال قبل مجھے سمجھ نہیں آ سکی تھی کہ اینڈی نے ایسا کام کیوں کیا؟ تب مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ ہیرس ’ہائی پوکسیا‘ کا شکار تھے اور اتنی اونچائی پر آکسیجن کی کمی انسانی دماغ اور جسم پر کیا اثر ڈالتی ہے۔
کے ٹو جہاں بلند چوٹیوں کو تسخیر کرنے والے کوہ پیماؤں کے دلوں میں ’ایڈونچر‘ یا مہم جوئی کے جذبات جگاتی ہے وہیں یہ چوٹی دنیا کی سب سے بلند چوٹی ایورسٹ سے بھی زیادہ خوفناک سمجھی جاتی ہے۔
اس چوٹی کو سر کرنے کی جستجو کرنے والے ہر چار میں سے ایک کوہ پیما کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ کے ٹو پر اموات کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ اس کے برعکس دنیا کی سب سے بلند چوٹی ایورسٹ پر یہی شرح چار فیصد ہے۔
دنیا کے اس دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو کو سردیوں میں فتح کرنے کی کوشش کرنے والے پاکستانی کوہ پیما محمد علی سدپارہ سمیت تین کوہ پیماؤں کا رابطہ جمعہ کے روز سے بیس کیمپ، ٹیم اور اہل خانہ سے منقطع ہوا اور سنیچر کی شب دو روز کے تلاش اور بچاؤ کے آپریشن میں کامیابی نہ ملنے کے بعد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ نے کہا ہے کہ اب اس کارروائی کو ان کے والد کی لاش کی تلاش کے آپریشن میں تبدیل کر کے جاری رکھنا چاہیے۔
اس سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے آغاز سے ہی پاکستان میں سوشل میڈیا سے لے کر کوہ پیمائی سے متعلق دلچسپی رکھنے والوں حتیٰ کہ عام افراد تک سبھی یہ سوال کرتے نظر آئے ہیں کہ 8000 میٹر کی بلندی پر انتہائی سرد موسم میں ان تین کوہ پیماؤں کے زندہ رہنے کا کتنا امکان باقی ہے؟

دائیں سے بائیں) جے پی موہر، محمد علی سدپارہ اور جان سنوری)

ڈیتھ زون کیا ہوتا ہے؟
اس کے لیے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ڈیتھ زون کیا ہوتا ہے اور اور کوہ پیما ڈیتھ زون میں کتنے گھنٹوں تک زندہ رہ سکتے ہیں؟ اور اتنی اونچائی پر رہنے سے انسانی دماغ اور جسم پر کیا اثرات پڑتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق انسانی جسم سطح سمندر سے 2100 میٹر تک کی بُلندی پر رہنے کے لیے بنا ہے۔ اور اس سے زیادہ بلندی پر انسانی جسم میں آکسیجن کی سچوریشن تیزی سے کم ہونا شروع ہوجاتی ہے اور جسم میں منفی اثرات رونما ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
’ایکشن گائیڈ ہائی ایلٹیٹیوڈ ایکلیماٹائزیشن اینڈ ایلنس‘ کے مصنف رک مارٹن کے مطابق ایسے اونچے پہاڑوں پر جانے سے قبل کوہ پیما کئی ہفتوں تک ’ایکلیماٹائزیشن (ACCLIMATIZATION) یعنی جسم کو ماحول کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا عمل کرتے ہیں تاکہ ان کا دماغ آکسیجن کی سپلائی کے  مطابق آہستہ آہستہ ماحول کے حساب سے کام کرنے لگے۔کوہ پیمائی کے ماہرین کے مطابق کے ٹو پر عموماً کیمپ ون (6000 میٹر کی بلندی) کے بعد کوہ پیما خطرناک زون میں داخل ہو جاتے ہیں اور ان میں آکسیجن کی کمی کے منفی اثرات بھی نمُودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

چین اور پاکستان کے درمیان حائل آسمان سے باتیں کرتی ہوئی چوٹیوں پر مشتمل قراقرم پہاڑی سلسلے کی اس چوٹی پر حالات اتنے غیر موافق ہیں کہ اسے ایک طویل عرصے سے ’خونخوار چوٹی‘ کہا جاتا ہے

محقق سواپنیل پارالکر، جو کہ انڈیا میں ریاست گجرات کے جی ایم ای آر ایس میڈیکل کالج سے منسلک ہیں، نے اس حوالے سے خاصی جامع تحقیق کی ہے۔ اپنے تحقیقی مقالے میں وہ لکھتے ہیں کہ کئی کوہ پیما ہائی ایلٹیٹیوٹ پلمونرئی انیڈما (HAPE) یا ہائی ایلٹیٹیوٹ سیریبل انیڈما (HACE) کا شکار ہو جاتے ہیں جو زیادہ تر اموات کی وجہ بنتا ہے۔

ہائپوکسیا (آکسیجن کی کمی) کے ساتھ ، نبض تیز ہو جاتی ہے، خون گاڑھا ہو کر جمنے لگتا ہے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ زیادہ خراب حالت میں کوہ پیماؤں کے پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے اور وہ ہائی ایلٹیٹیوٹ سیریبل انیڈما (HACE) کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انھیں خون کے ساتھ یا اس کے بغیر کھانسی آنے لگتی ہے اور ان کا نظام تنفس بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ایسی حالت میں بیشتر کوہ پیماؤں کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے، ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، انھیں عجیب ہذیانی خیالات آتے ہیں اور وہ پھر وہی کرتے ہیں جو ’ایورسٹ‘ فلم میں اینڈی ہیرس نے کیا۔
سطح سمندر سے 8611 میٹر کی بلندی پر واقع کے ٹو کا ’بوٹل نیک‘ کے نام سے مشہور مقام تقریباً 8000 میٹر سے شروع ہوتا ہے اور کوہ پیماؤں کی اصطلاح میں اسے ’ڈیتھ زون‘ یا موت کی گھاٹی کہا جاتا ہے جہاں بقا کے چیلنجوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

یہاں کوہ پیماؤں کو جان لیوا قدرتی موسم کے ساتھ نبردآزما ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے جسم کے اندر بھی ایک لڑائی لڑنا پڑتی ہے۔ڈیتھ زون میں جہاں ایک غلط قدم کا مطلب سیدھا ہزاروں فٹ گہری کھائی یا گلیشیر میں گر کر موت کو گلے لگانے کے مترادف ہے وہیں اس اونچائی پر آکسیجن کی مزید کمی سے سنگین اثرات رونما ہوتے ہیں اور انسانی دماغ کا جسم پر کنٹرول ختم ہو جاتا ہے اور جسم مفلوج ہو جاتا ہے۔
ڈیتھ زون میں انسانوں کو سانس لینے کے لیے درکار آکسیجن کی کمی سے جہاں ’آلٹیٹیوٹ سکنیس (اونچائی پر لاحق ہونے والی بیماری)‘ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں وہیں اتنی بلندی پر تیز ہوائیں بھی کوہ پیماؤں کے لیے جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔یہاں پر انتہائی کم درجہ حرارت بھی جسم کے کسی بھی حصے میں فراسٹ بائٹ کا باعث بن سکتا ہے۔

اتنی بلندی پر انسانی جسم کو پیش آنے والے طبی مسائل کے حوالے سے کی گئی تحقیق کے مصنف پروفیسر ہربرٹ این ہلٹگرین کے مطابق یہاں تک چڑھنے والے کوہ پیما سیریبرل اینڈیما، ریٹنا ہیمرج، شدید سر درد، متلی، بد نظمی، ہیلوسینیشن یا نظر کا دھوکا وغیرہ جیسے طبی حالات سے بھی دوچار ہو سکتے ہیں۔
ڈیتھ زون میں غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور یہاں آپ مخصوص وقت سے زیادہ نہیں گزار سکتے ہیں اور یہاں نیند یا زیادہ دیر رکنے کا مطلب موت ہے۔اسی لیے کیمپ فور میں پہنچنے والے کوہ پیما سوتے نہیں۔ بس کچھ دیر سستا کر سمٹ کرنے یا چوٹی پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور تقریباً 16 سے 18 گھنٹوں کے دورانیے میں چوٹی سر کرکے ڈیتھ زون سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو کوہ پیما ڈیتھ زون میں زیادہ سے زیادہ کتنے گھنٹوں تک زندہ رہ سکتے ہیں؟ اس کا سیدھا سا جواب ہے: 16 سے 20 گھنٹے۔ کوہ پیماؤں کو خصوصی ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ ڈیتھ زون میں اس سے زیادہ وقت ہرگز نہ گزاریں۔


کیا آج تک کسی کوہ پیما نے ڈیتھ زون میں 20 گھنٹے سے زیادہ وقت گزارا ہے؟


اگرچہ 48 گھنٹے سے زیادہ کسی کوہ پیما کے 8000 میٹر سے اونچائی پر زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں لیکن ڈیتھ زون میں سب سے زیادہ وقت گزارنے کا ریکارڈ نیپال کے پیمبا گلجئین شرپا کے پاس ہے جو سنہ 2008 میں دو کوہ پیماؤں کو بچانے کے لیے 90 گھنٹے تک کے ٹو کے ڈیتھ زون میں رہے۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ وہ دو کوہ پیماؤں کو بچانے کے لیے کیوں ڈیتھ زون میں واپس گئے اور کیوں 8000 میٹر سے زیادہ بلندی پر موت کی گھاٹی میں 90 گھنٹے کا وقت گزارا؟
ان کا جواب تھا ’میں کے ٹو پر خوش قسمت تھا، آپ جانتے ہیں۔ میں خوش قسمت تھا۔‘

منزہ انوار کی انتہائی معلوماتی یہ تحریر7فروری 2021کو بی بی سی اردو ڈاٹ کام پر شائع ہوئی۔ ورلڈ ویو میڈیا کے قارئین کیلئے اسے بی بی ۔۔سی کے شکریہ کیساتھ شائع کیا جارہا ہے

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?