دودھ بیچتے بیچتے وزیر اعظم کےمنصب تک جا پہنچا

0
(0)

یہ کہانی ہے ملک معراج خالد کی۔۔۔!

بیس ستمبر 1915ء کو لاہور کےسرحدی گاؤں  برکی ھڈیارہ میں ایک بچہ پیدا ہوا۔ چار بہن بھائیوں میں یہ سب سے چھوٹا تھا۔ پورا گاؤں ان پڑھ مگر اسے پڑھنے کا بے حد شوق تھا۔اس کے گاؤں میں کوئی سکول نہ تھا لہٰذا یہ ڈیڑھ میل دور دوسرے گاؤں پڑھنے جاتا۔ راستے میں  اسےایک برساتی نالے سے گزرنا پڑتا۔ چھٹی جماعت پاس کرنے کے بعد وہ 8میل دور دوسرے گاؤں میں تعلیم حاصل کرنے جاتا۔ اس نے مڈل کا امتحان امتیازی نمبروں کیساتھ پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا۔مزید تعلیم حاصل کرنے لاہور آیا۔ یہاں اس نے سنٹرل ماڈل سکول میں (جوکہ اس وقت کا نمبر ایک سکول تھا) داخلہ لے لیا۔ اس کا گاؤں شہر سے 13کلومیٹر دور تھا۔

غریب ہونے کی وجہ سےتعلیم جاری رکھنا مشکل تھی مگر اس نے مشکل حالات کے سامنے ہتھیار نہ پھینکے بلکہ حالات کے مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اس نے تہیہ کیا کہ وہ گاؤں سے دودھ لے کر شہر میں بیچے گا اور اپنی تعلیم جاری رکھے گا چنانچہ وہ صبح منہ اندھیرے اذان سے پہلے اٹھتا۔ مختلف گھروں سے دودھ اکٹھا کرتا۔ ڈرم کو ریڑھے پر لاد کر شہر پہنچتا۔ شہر میں وہ نواب مظفر قزلباش (وزیر اعلیٰ پنجاب۔ مارچ تا اکتوبر1958) کی حویلی اور کچھ دکانداروں کو دودھ فروخت کرتا اور مسجد میں جا کر کپڑے بدلتا اور سکول چلا جاتا۔ کالج کے زمانہ تک وہ اسی طرح دودھ بیچتا اور اپنی تعلیم حاصل کرتا رہا۔ اس نے غربت کے باوجود کبھی دودھ میں پانی نہیں ملایا۔ بچپن میں اس کے پاس سکول کے جوتے نہ تھے۔سکول کیلئے بوٹ بہت ضروری تھے۔ جیسے تیسے کر کے اس نے کچھ پیسے جمع کر کے اپنے لئے جوتے خریدے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر وہ گاؤں میں بھی جوتے پہنتا تو وہ جلدی گھِس جاتے چنانچہ وہ گاؤں سے والد کی دیسی جوتی پہن کر آتا اور شہر میں جہاں دودھ کا برتن رکھتا وہاں اپنے بوٹ کپڑے میں لپیٹ کر رکھ دیتا اور اپنے سکول کے جوتے پہن کے سکول چلا جاتا۔ والد سارا دن اور بیٹا ساری رات ننگے پاؤں پھرتا۔

لاہور کے قریب ملک معراج خالد کا گاؤں برکی ھڈیارا

انیس سو پینتیس میں اس نے میٹرک میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور پھر اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں داخلہ لیا۔ اب وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کیلئے گاؤں سے ریڑھی میں دودھ لاتا اور شہر میں فروخت کر دیتا۔ اس کام میں کبھی اس نے عار محسوس نہ کیا۔

فرسٹ ائیر میں اس کے پاس کوٹ نہ تھا اور کلاس میں کوٹ پہننا لازمی تھا چنانچہ اسے کلاس سے نکال کر غیر حاضری لگا دی جاتی۔اساتذہ کو اس معاملے کا علم ہوا تو انہوں نے اس ذہین طالبعلم کی مدد کی۔ نوجوان کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔

1939ء میں اس نے بی اے آنرز کیا۔ یہ اپنے علاقے میں واحد گریجویٹ تھا۔ یہ نوجوان اس دوران جان چکا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی کام آسانی سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا۔ کامیابیوں اور بہترین کامیابیوں کیلئے ان تھک محنت اور تگ و دو لازمی عنصر ہے۔

معاشی دباؤ کے تحت بی اے کے بعد اس نے باٹا پور کمپنی میں کلرک کی نوکری کر لی چونکہ اس کا مقصد اور گول لاء یعنی قانون پڑھنا تھا لہٰذا کچھ عرصہ بعد کلرکی چھوڑ کر قانون کی تعلیم حاصل کرنے لگا اور 1946ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کر لیا۔  1950ء سے باقاعدہ پریکٹس شروع کر دی۔ اس پر خدمت خلق اور آگے بڑھنے کا بھوت سوار تھا۔ اس نے لوگوں کی مدد سے اپنے علاقے میں کئی تعلیمی ادارے قائم کئے۔ اس جذبہ کے تحت 1965ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوا۔ پیپلزپارٹی کے روٹی‘ کپڑا اور مکان کے نعرے سے متاثر ہو کر اس میں شامل ہو گیا۔

1970ءمیں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوا اور نواب مظفر قزلباش کے بھائی کو جن کے گھر یہ دودھ بیچتا کرتا تھا‘ شکست دی۔ 1971ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی کابینہ میں وزیر خوراک اور پسماندہ علاقہ جات بنا۔

1972ء کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا۔ وزارت اعلیٰ کے دوران اکثر رکشے میں سفر کرتا۔  گورنر مصطفی کھر کے ساتھ نبھا نہ ہونے کی وجہ سے استعفیٰ دے کر ایک مثال قائم کی۔1973ء میں اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔ 1973ء میں وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور کا قلمدان سونپا گیا۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?