ہائپر لوپ ریل کار

5
(3)

 سفر کی دنیا میں انقلاب، سرنگ کےاندررہزارکلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سےدوڑتی  ریل کار

ہوائی جہاز سے بھی تیز رفتارگاڑی،کسی قسم کی آواز اور نہ جھٹکے

امریکی کمپنی کا 2025 میں سیفٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے اور 2030 میں کمرشل سروس شروع کرنے کا منصوبہ

سلمان ضیا۔ الیکٹریکل ڈیپارٹمنٹ، گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی، راولپنڈی

لاس ویگاس: ورجن ہائپر لوپ کمپنی کے مالک رچرڈ برینسن منصوبے پر کام کرنے والے انجینئرز کے ہمراہ

سائنسی ترقی کی حیرت انگیز تیز رفتار نے بہت کم عرصے میں انسانی زندگی کے رنگ ڈھنگ، طور طریقے،  قدریں اور ادب آداب  ہر چیز   بدل کے رکھ دی۔ یہ سب کچھ گزشتہ ایک سو سال کے اندر ہوا۔۔اور اب اس تغیر کی رفتار بھی بے قابو ہوتی جا رہی ہے۔۔، آغاز پیدل چلنے سے کیا اور پھر اونٹوں گھوڑوں ، بیل گاڑیوں، تانگوں، چھکڑوں، کاروں، کشتیوں اور جہازوں پر سفر کرتے کرتے اب ہم ہائپر لوپ پاڈ تک پہنچ گئے ہیں۔
جی ہاں عام مسافر طیارے سے بھی تیز رفتار ہائپر لوپ پاڈ، یہ نام ابھی نیا ہے لیکن کچھ بعید نہیں اگلے چند سالوں میں آپ بھی اس سواری سے لطف اندوز ہو رہے ہوں۔
لاس اینجلس میں قائم کمپنی کے سائنس دان کچھ عرصے سے ایک نئی سواری پر کام کر رہے ہیں۔ یہ کیپسول نما ایک بالکل ہی نئے انداز کی سواری ہے۔ جو مقاطیسی سرنگ کے اندر انتہائی برق رفتاری سے چلتی ہے۔ مقناطیسی غار میں چلنے والی اس گاڑی کے پہیے ہیں اور نہ پر۔ چونکہ کیپسول پہیوں کی بجائے مقناطیسی ماحول میں تیرتا ہوا سفر کرتا ہے لہذا اس گاڑی کی کوئی آواز ہے اور نہ اس میں جھٹکے لگتے ہیں۔ گویا ہائپر لوپ کا سفر انتہائی پرسکون، بے آواز اور برق رفتار ہے۔ چاروں طرف کا یکساں مقناطیسی ماحول کیپسول نما گاڑی کو سرنگ کی دیواروں کیساتھ ٹکرانے یا رگڑ کھانے سے محفوظ رکھتا ہے۔

منصوبے پر کام کرنے والی امریکہ کی ورجن ہائپرلوپ نامی کمپنی کےسائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ ہائپر لوپ کیپسول زیر زمین سرنگ میں ہوائی جہاز کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے سفر کر سکتا ہے اور اس کی رفتار کو آٹھ سو میل فی گھنٹہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ کمپنی انسان کو مقناطیسی کیپسول میں بھیجنے کا کامیاب تجربہ کر چکی ہے۔ اگرچہ ہائپر لوپ کمپنی نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں اپنی تجربہ گاہ میں چار سو کے  قریب تجربے کر چکی ہے، تاہم یہ پہلا انسان بردار تجربہ تھا۔

ساڑھے چھ کروڑ ڈالرمالیت کے اس منصوبے کے روح رواں اور ورجن ہائپر لوپ کمپنی کے مالک رچرڈ برینسن   کے مطابق ہائپرلوپ پاڈ کا پہلا انسانی تجربہ کامیاب رہا۔ اس دوران اس ٹیکنالوجی کے انسانوں کیلئے محفوظ ہونے کی آزمائش کی گئی جس کے بعد امید پیدا ہو گئی ہے کہ اس ایجاد کو انسانی سفر اور سامان کی حمل و نقل کیلئے استعمال کیا جا سکے گا۔
پہلے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کمپنی کے چیف ٹیکنالوجسٹ، جاش گیجل اور مسافروں کے معاملات کی نگران سارہ لوچیان نے بتایا کہ اس مقصد کیلئے مقناطیسی میدان کی سرنگ تعمیر کی گئی تھی جس کے اندر پاڈ نے 107 میل یعنی 172 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا۔
ورجن ہائپر لوپ کے چیئرمین اور ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین سلطان احمد سلیم اس کامیاب تجربے پر بے انتہا خوش تھے ان کا کہنا تھا کہ میری آنکھوں کے سامنے ایک نئی تاریخ کا رقم ہونا کسی خوب سے کم نہیں تھا۔
ہائپر لوپ کمپنی ایک ایسے مستقبل کا خواب دیکھ رہی ہےجس میں ویکیوم کے اندر تیرتے بے آواز کیپسول ، مسافروں اور سامان کو لے کر ایک ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ یا اس سے بھی تیز رفتار سے ایک جگہ سے دوسری جگہ آ جا رہے ہوں گے۔
مقناطیسی قوت استعمال کرنے والا ہائیر لوپ نظام بغیر کسی آواز کے آرام دہ اور انتہائی تیز رفتار سفر ممکن بناتا ہے۔ جس کے ذریعے آپ نیو یارک سے واشنگٹن ڈی سی کے درمیان کا فاصلہ تیس منٹ میں طے کر سکیں گے جو کسی بھی کمرشل جیٹ پرواز سے دوگنا تیز،اور بلٹ ٹرین سے چار گنا زیادہ تیز رفتار سفر ہو گا۔
امریکی کمپنی اب 2025 میں سیفٹی سرٹیفکیٹ حاصل کرنے اور 2030 میں کمرشل سروس شروع کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کینیڈا کی کمپنی ٹرانسپاڈ اور سپین کی کمپنی زیلیراس بھی اسی ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہے جسے بعد ازاں انسانی سفر اور سامان کی حمل ونقل کیلئے استعمال کیا جائے گا۔
ان کمپنیوں کا دعوی ہے کہ جدید طرز کی اس ٹرانسپورٹ سے سفر کے وقت کی بچت کے ساتھ ساتھ ماحول کی آلودگی کم کرنے میں بھی مدد ملے گی کیونکہ اس ٹیکنالوجی میں ڈیزل، پیٹرول یا کوئلہ استعمال نہیں ہوتا۔

دوسرے سفری ذرائع کیساتھ موازنے، اعداد و شمار، تجزیئے اور تفصیل کیلئے مندرجہ ذیل انفو گرافک تصویر ملاحظہ کیجیئے

Photos with Thanks to: https://www.dailymail.co.uk/

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?