اسلام آباد کے قدیم دیہات

5
(2)

اسلام آباد کے قدیم دیہات

 اسلام آباد کو “اسلامی عسکریہ پاکستان” کا  دارالحکومت  بنانے کا اعلان 1959 ء میں ہوا ۔

اس سے قبل اس سرزمین پر کم وبیش 200 دیہات آباد تھے۔۔۔       

ضیا الحق چوہدری

یہ سرزمین لاکھوں سا ل سے آباد چلی آرہی تھی ۔علاقے سے ملنے والے فوسلز اس کی دلیل ہیں ۔ برفانی دور۔ ۔ ارتقائے انسانی کا ثانوی دور۔  ۔  پتھر دور کی تہذیب۔۔ ۔  قدیم آریہ تہذیب۔ ۔ رگ ویدک دور ۔ ۔ گندھارا تہذیب ۔  ۔ ایرانی تہذیبی دور۔ ۔  یونانی دور کے اثرات۔ ۔چندر گپت  موریہ دورحکومت۔ ۔  سائیس تھین دور۔ ۔  پارتھیائی دور۔ ۔   کشان دور ۔ ۔سفید ہنوں کا دور ۔ ۔ ترک شاہی دور ۔ ۔ اسلامی دور حکومت کا آغاز ۔  ۔ غوری اور مغلیہ دور  ۔ ۔سکھوں کا دور ۔  ۔برطانوی دور سے لےکر پاکستان کے وجود میں آنے تک پوٹھوہار کی اس دھرتی پر اربوں  انسانوں کے قدم پڑے ۔  اس سرزمین نے ہزاروں نشیب و فراز،زلزلوں،سیلابوں ، آفات  اور خونریزیوں کا سامنا کیا ۔یہ دھرتی پوٹھوہار کی سواں تہذیب وتمدن کا مرکزبھی رہی ہے ۔ یہاں انسانی زندگی کے آثار 20 لاکھ سال پرانے ہیں۔   ماہرین ارضیات کے  مطابق یہاں سےانسانی قدموں کے لاکھوں  سال پرانےکے نشانات ملے ہیں۔ اور اس تحقیق کی بنیاد وہ فوسلز تھے جو دریائے سواں کے ارد گرد  کے علاقوں مورگاہ ،گڑھی شاہاں  ،سواں کیمپ سے ملے  ہیں۔  ماہر ارضیات ڈی ۔این واڈیا نے 1928 میں دریائے سواں کے کنارے ایسے اوزاروں کا پتہ چلایا ہے جو پتھر کے بنے ہوئے اوزار استعمال کرنے سے بھی قبل کا زمانہ ہے ۔ خطہ پوٹھوہار میں واقع   ارضِ اسلام آباد کے تاریخی پسِ منظر کا جس قدر جائزہ لیا جائے اور اس کی جغرافیائی ،لسانی، تہذیبی ،تمدنی اور قدیم معاشرتی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ان اسباب کی اہمیت اور بھی دوبالا ہو جاتی ہے جن کی بنا پر اسے پاکستان کا وفاقی دارالحکومت قرار دیا گیا ہے ۔ کسے معلوم تھا اس  دھرتی  کے سنگ و خشت سے ابھر کر  دنیا کا ایک جدید اور  خوبصورت شہر جنم لے گا  ۔ 1960ء  میں اسلام آباد کے تعمیر کے ابتدائی مراحل کے دوران وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے اکثر دیہات کی زمینیں  ایکوائر کر لیں ۔ اس کے بدلے میں یہاں کے مکینوں کو ملتان ،جھنگ اور سرگودھا میں الاٹمنٹس  کی گئیں ۔۔ لیکن مکمل قدیم  آبادی کی شہر سے باہر منتقلی  موجودہ دور تک مکمل نہیں ہو سکی  ۔ بعض گاوں ابھی تک سی ڈی اے کی ایکوائرشدہ زمین پر اسی طرح آباد ہیں۔ البتہ اکثر دیہات کا نام و نشاں مٹ چکا ہے ۔

مورخ اگر    اس دھرتی کے ماضی پر نظر دوڑائے تو اسے ہر سیکٹر یا سب سیکٹر میں ایک گاوں آباد نظر آئے گا ۔ بلکہ اس کے اولین آباد کار بمعہ اپنے شجرہ نسب کے آباد دکھائی دیں گے ۔  دیہات کے ناموں کی وجہ تسمیہ بھی اپنی الگ شناخت ظاہر کرے گی ۔ اسلام آباد کے مضافات کے طویل العمر باسی قدیم تہذیب و تمدن اور آثارِ قدیمہ کی خاموش زبان میں بہت سی پرانی اور معنی خیز داستانیں سناتے ہیں ۔      

اسلام آباد کے  مشہور دیہات میں سیدپور، نورپورشاہاں ،شکر پڑیاں، ملپور،  میرا بیگوال ، بہارہ کہو، گولڑہ شریف ،سری سرال ،باغ بٹاں ،ملکاں ہانس، بھیکہ سیداں ،  کٹاریاں، گیدڑ کوٹھا، شاہ اللہ دتہ، شامل ہیں  ۔

 شہر کی تعمیر کے دوران مارگلہ کے دامن میں واقع بہت سے دیہات جیسے نورپور شاہاں، شاہدرہ سیدپور اور گولڑہ شریف کو اسلام آباد کا دیہی علاقہ قرار دےکر ان کی اصل شکل کو برقرار رکھا گیاہے  ۔ اس دیہی علاقے کا مجموعی رقبہ اڑتیس ہزار نوسو  مربع کلومیٹر ہے

سیدپور اور شاہ اللہ دتہ قدیم ترین دیہات ہیں سید پور کا پرانا نام فتح پور باولی تھا اسے پہلے پہل مغلوں کے ایک بزرگ مرزا فتح بیگ نے 1530میں آباد کیا  تھا  ۔ 1580 میں مان سنگھ نے کابل جاتے ہوئے سید خان  گکھڑ کو یہ جاگیر عطا کی ۔ بعد میں سید خان کی مناسبت سے اس کا نام سیدپور رکھا گیا ۔ سید خان سلطان سارنگ خان کی اولاد میں تھے۔ سیدپور کو قدیم دور سے ہی اہمیت حاصل رہی ہے ۔ ،1849 میں یہاں انگریزوں نے سکھوں کو شکست دے کر قبضہ کیا تھا ۔ یہاں ہندوں کے مشہور استھان رام کنڈ ، لچھمن کنڈ اور مندر تھا جس کے آثار اب بھی موجود ہیں ۔ جنرل مشرف کی فوجی  آمریت کےدور میں سیدپور کو ماڈل ویلیج کا درجہ دےکر اپ گریڈ کیا گیا۔  اس گاوں میں گکھڑ برادری کی اکثریت ہے جبکہ سید،گوجر، راجپوت، اعوان، مغل، دھنیال، منہاس اور بھٹی  بھی آباد ہیں ۔  سیدپور سے منسلک قدیمی آبادیوں میں چک ، بیچو، میرہ ، ٹیمبا ،بڑ ، جنڈالہ ہیلاں شامل تھے چک اور بیچو موجودہ جی 6تھری ،جی 6فور اور موجودہ  ایف سکس مرکز کا ایریا ہے میرہ ،ٹیمبا میں  فیصل مسجد تعمیر کی گئی  ہے ۔

سیکٹر ای سیون میں ڈھوک جیون نام کی بستی تھی جسے جیون گوجر نے گجرات سے آ کر آباد کیا تھا۔   گجرات میں قحط سالی کے دوران    چیچی،گورسی اورکالس گوت کے گوجروں کےآباواجداد بھی ہجرت کر کے  ڈھوک جیون میں آباد ہوئے یہ  بستی فیصل مسجد سے چڑیا گھر تک پھیلی ہوئی تھی  ۔ ۔ اس آبادی  کا  قدیمی قبرستان آج بھی سیکٹر ای سیون میں شاہین مارکیٹ کے قریب پارک میں موجود ہے ۔

سیکٹر جی 5 میں کٹاریاں گاوں ہوا کرتا تھا آج کل یہاں وزارت خارجہ کے دفاتر ہیں کٹاریاں گاوں کے باشندوں کو سیکٹر آئی نائن کے سامنے   راولپنڈی  کی حدود میں متبادل جگہ دی گئی۔ جسے آج کل  نیوکٹاریاں کہا جاتا ہے ۔  یہ گوجروں کی کٹاریہ گوت سے منسوب ہے۔

  چڑیا گھر کے سامنے سیکٹر ایف 6 میں بانیاں نام کی بستی تھی جس کے اولین آباد گوجروں نے اپنی گوت بانیاں کے نام پر اس کا نام رکھا ۔اسلام آباد میں گوجر قوم کی آباد کردہ بستیوں میں ٹھٹھہ گوجراں، کنگوٹہ گوجراں ،کٹاریاں، بھڈانہ ،بانیاں ،نون، بوکڑہ،داداں گوجراں،گوراگوجر ،جہاری گوجر ، بھڈانہ کلاں ،بھڈانہ خورد ،پوسوال  ،ڈھوک گوجراں ، ڈھوک جیون ،  جبی، بڈھو ،روملی، نڑیاس  ،نڑیل  شامل ہیں ۔

راولپنڈی گزٹیئر 1884ءکے مطابق ضلع راولپنڈی کے109موضعات کے مالکان گوجر  تھے اور 62 گاوں گکھڑوں کےتھے  ۔  سیکٹر جی 10 کا پرانا نام ٹھٹھہ گوجراں تھا۔

شاہ اللہ دتہ اسلام آباد کا قدیم ترین گاوں تصور کیا جاتا ہے ۔ یہ تقریباًساڑھے چھ سو سال قدیم  ہے جہاں سینکڑوں سال پرانی غاریں قدیم فطری تہذیب اور مذاہب کا پتہ دیتی ہیں ۔

اسلام آباد سے بہارہ کہو جاتے ہوئے مری روڈ پر ملپور کی  قدیم بستی واقع  ہے۔ یہ گاوں بھی ابتدا میں قطب شاہی اعوانوں کا تھا اور راول ڈیم کی حدود کے اندر واقع تھا ۔بعد ازاں  اسےنیو ملپور کے نام سے بسایا گیا ۔ یہ گاوں  سردار بدھن خان اعوان نے پہلے پہل آباد کیا تھا بعد میں یہ گکھڑوں کی ملکیت میں آ گیا یہاں کمیال، گکھڑ، شیخ اور ملیارآباد تھے 1976ء میں وزیراعظم ذوالفقار  علی بھٹوشہید نے اسے ماڈل ویلج کا درجہ دیا تھا ۔

موجودہ کنونشن سنٹر کے قریب  ڈھوک کی چھوٹی قسم ًڈھوکریً کے  نام کا چھوٹا سا گاوں آباد تھا ۔ جو انیس سواسی کی دہائی تک مزدور بستی کے طور پر آباد رہا بعد ازاں اس کا نشاں مٹ گیا ۔ البتہ ڈھوکری سٹاپ نے اس کے نام کو زندہ رکھا ہوا ہے۔ موجودہ آبپارہ کے قریب باگاں یا باغ کلاں نام کی بستی تھی ۔اسلام آباد شہر کی تعمیر کی ابتدا اکتوبر 1961 میں اسی باغ کلاں گاوں سے کی گئی ۔   نور پور شاہاں حضرت شاہ عبدالطیف کی آمد سے قبل چور پور مشہور تھا ۔یہ علاقہ ایمان کی روشنی سے منور ہو کر نور پور کہلانے لگا ۔

راول ڈیم نالہ کورنگ پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ یہ نالہ مارگلہ اور مری کی زیریں پہاڑیوں کے چشموں اور برسات کے پانی سے سارا سال بھرا رہتا ہے ۔

ڈیم کے موجودہ رقبے میں کئی دیہات آباد تھے جن میں پھگڑیل ،شکراہ ،کماگری، کھڑپن اور مچھریالاں شامل تھے ۔

اسلام آباد کی حدود میں مارگلہ ہلز پر کئی دیہات زمانہ قدیم سے آباد ہیں جن میں تلہاڑ ،گوکینہ ،ملواڑ سرہ   ، گاہ ،نڑیاس بڈھو  شامل ہیں ۔ فیصل مسجد کے مغرب میں پہاڑوں پر کلنجر نام کی بستی  آباد تھی ۔ 

 موجودہ جناح سپر مارکیٹ کے قریب روپڑاں نام کی بستی تھی  ۔گولڑہ شریف کے مالکان قطب شاہی اعوان تھے۔ ان کے اولین آباد کار نے اپنی شاخ  گوڑہ کے نام پر اس مقام کا نام رکھا گیا ۔  میرا جعفر گولڑہ کے قریب ایک چھوٹا سا گاوں ہے اس کے ساتھ میرا سمبل جعفر نام کی بستی ہے ان دونوں  موضعات کو  جعفر نامی شخص نے آباد کیا ۔

ملک پور عزیزال کو ترکھان قبیلے نے آباد کیا ۔ یہاں کوکنیال اور مکنیال لوگ بھی آباد ہیں ۔

موہڑہ نگڑیال کو راجپوت قبیلے کی نگڑیال شاخ نے آباد کیا ۔

میرا بیگوال سملی ڈیم روڈ پر واقع ہے یہ پہاڑی کے قریب خوبصورت محل وقوع پر واقع ہے اسے دھنیال قبیلے نے آباد کیا ۔موضع تمیر کو دھنیال قبیلے کی شاخ رونیال نے آباد کیا ۔   کوری ، کرور،کرپا، چراہ، پنڈ بیگوال ،  چارہان اور میرا بیگوال دھنیال قبیلے کے مشہور دیہات تھے ۔

جھنگی سیداں موٹروے کے قریب اہم گاوں ہے اس کے مالکان سید تھے۔  جن کے نام پر اس کا نام رکھا گیا یہاں پر ان کی واضع اکثریت ہے ۔شاہ اللہ دتہ بھی سادات کی ملکیت ہے ۔

 ہون دھمیال سہالہ ٹریننگ کالج کے قریب گاوں ہے اسے دھمیال قبیلے نے آباد ہے یہاں مٹھیال شاخ کے لوگ آباد ہیں ۔ ہردو گہر سہالہ کے قریب گاوں ہے یہ سواں ندی کے دو حصوں میں تقسیم ہے ڈھوک قاضیاں  گہر راجگان چہال یاراں گہر نئی آبادی گھڑی اور دندی اس کی ذیلی بستیاں ہیں یہ کہوٹہ روڈ پر واقع ہے۔

علی پور اور فراش دو علیحدہ علیحدہ گاوں ہیں راول ڈیم سے سات آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر لہتراڑ روڈ پر واقع ہیں۔ ان کی زمینیں بھی ایکوائر کر لی گئی تھیں لیکن قبضے حاصل نہ کئے جا سکے اس کے قریب پنجگراں نام کی بستی ہے ۔ علی پور کو اس کے اولین آباد بابا علی محمد کے نام پر رکھا گیا ۔ ابتدائ طور پر یہاں کھوکھر ،ملک آباد تھے بعد میں ڈھونڈ ،راجپوت ،بھٹی، قاضی اور جنجوعہ بھی آباد ہوئے کری اور ترلائی کے قریب علی پور کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

اسلام آباد کی حدود میں آباد دیہات اور قصبوں کی فہرست بہت طویل ہے اکثر بستیوں کی شناخت مٹ چکی ہے ان کی جگہ جدیدسیکٹر تعمیر ہو چکے ہیں ۔ چند اہم موضعات میں لوہی بھیر ،ملوٹ ،ہون دھمیال، اراضی مسنالی ،بگونال موہڑہ ،باکری بدھال ،چک شہزاد ، جگیوٹ ،،ملک پور عزیزال ،شاہدرہ، ماندلہ ،نڑولہ ،رتہ ہوتر ،نڑیل، جبی ،کملاڑی ،روملی، منڈیالہ، سرہ،بنی گالا ، ملواڑ ، نڑیاس ،بڈھو، ،موہڑہ نور ، ،ٹھنڈا پانی ،سملی  ،ترنول ،سری سرال ،میراآبادی ،سوہان ،چھتر، شاہ پور، سکریلہ ،دوہالہ ،اٹھال ،چونترا  ،بابری پیٹھا ،کرلوٹ ،ہوتراں، کیتھر منگال ،چنیاری ،تمیر، میرا شامل ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?