آغوش تھراپی

0
(0)

ممتا ۔مرکزی شفا خانہ برائے توجہ، تالیف اور علاج                       

    یہ گزشتہ صدی کے آخری سال کی موسمِ بہار کی ایک رات تھی۔میری شادی ہوئے تقریباً دوسال ہو گئے تھے۔ اور بڑا بیٹا قریب ایک برس کا رہا ہوگا۔     

     اس رات کمرے میں تین لوگ تھے،میں، میرا بیٹا اور اس کی والدہ! تین میں سے دو لوگوں کو بخار تھا،مجھے کوئی ایک سو چار درجہ اور میرے بیٹے کو ایک سو ایک درجہ۔ اگرچہ میری حالت میرے بیٹے سے کہیں زیادہ خراب تھی۔ تاہم میں نے یہ محسوس کیا کہ جیسے  کمرے میں صرف دو ہی لوگ ہیں،میرا بیٹا اور اسکی والدہ۔۔

اپنی والدہ مرحومہ اقبال سلطانہ اور برادر عزیز مرحوم بصیر الحق کی یاد میں

   بری طرح نظر انداز کئے جانے کے احساس نے میرے خیالات کو زیروزبر تو بہت کیا لیکن ادراک کے گھوڑے دوڑانے پر عقدہ یہی کھلا کہ عورت نام ہے اس ہستی کا کہ جب اس کو ممتا دیت کر دی جاتی ہے تو اس کو پھر اپنی اولادکے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔حتیٰ کہ اپنا شوہر بھی اور خاص طورپر جب اس کی اولاد کسی مشکل میں ہو۔اس نتیجہ کے ساتھ ہی ایک نتیجہ اور بھی نکالا میں نے اور وہ یہ کہ اگر میرے بیٹے کے درد کا درمان اس کی والدہ کی آغوش ہے تو یقینا میرا علاج میری ماں کی آغوش ہو گی۔

   اس خیال کا آنا تھا کہ میں بستر سے اٹھا اور ماں جی کے کمرے کی طرف چل پڑا۔ رات کے دو بجے تھے پر جونہی میں نے ان کے کمرے کا دروازہ کھولا وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گئیں جیسے میرا ہی انتظار کر رہی ہوں۔پھر کیا تھا،بالکل ایک سال کے بچے کی طرح گود میں لے لیا۔ اور توجہ اور محبت کی اتنی ہیوی ڈوز سے میری آغوش تھراپی کی کہ میں صبح تک بالکل بھلا چنگا ہو گیا۔         

  پھر تو جیسے میں نے اصول ہی بنا لیا جب کبھی کسی چھوٹے بڑے مسئلے یا بیماری کا شکار ہوتا کسی حکیم یا ڈاکٹر کے پاس جانے کی بجائے سیدھا مرکزی ممتا شفا خانہ برائے توجہ اور علاج میں پہنچ جاتا۔وہاں پہنچ کر مُجھے کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ بس میری شکل دیکھ کر ہی مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ لگا لیا جاتا۔میڈیکل ایمرجنسی ڈکلئیر کر دی جاتی۔ مجھے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ماں جی ) کے ہی بستر پر لٹا دیا جاتا اور انکا ہی کمبل اوڑھا دیا جاتا۔کسی کو یخنی کا حکم ہوتا تو کسی کو دودھ لانے کا،خاندانی معالج کی ہنگامی طلبی ہوتی،الغرض توجہ اور محبت کی اسی ہیوی ڈوز سے آغوش تھراپی ہوتی اور میں بیماری کی نوعیت کے حساب سے کبھی چند گھنٹوں اور کبھی چند پہروں میں روبہ صحت ہو کر ڈسچارج کر دیا جاتا۔

     یہ سلسلہ تقریباً تین ماہ قبل تک جاری رہا۔ وہ وسط نومبر کی ایک خنک شام تھی، میں دفتر سے گھر کیلئے روانہ ہونے لگا تو مجھے لگا کہ مکمل طور پر صحتمند نہیں ہوں،تبھی میں نے  آغوش تھراپی کرانے کا فیصلہ کیا اور گھر جانے کی بجائے ماں جی کی خدمت میں حاضر ہو گیا،لیکن وہاں پہنچنے پر اور ہی منظر دیکھنے کو ملا۔ماں جی کی اپنی حالت کافی ناگفتہ بہ تھی ،پچھلے کئی روز سے پھیپھڑوں کے عارضےکے باعث بخار اور درد کا دور چل رہا تھا۔

    میں خود کو بھول کر ان کی تیمارداری میں جت گیا،مختلف ادویات دیں،خوراک کے معروف ٹوٹکے آزمائے۔مٹھی چاپی کی،مختصر یہ کہ کوئی دو گھنٹے کی آؤ بھگت کے بعد ان کی طبیعت سنبھلی اور وہ سو گئیں۔ میں اٹھ کر گھر چلا آیا۔ابھی گھر پہنچے آدھ گھنٹہ ہی بمشکل گذرا ہوگا کہ فون کی گھنٹی بجی،دیکھا تو چھوٹے بھائی کا نمبر تھا،سو طرح کے واہمے ایک پل میں آکر گزر گئے۔جھٹ سے فون اٹھایا اور چھوٹتے ہی پوچھا، بھائی سب خیریت ہے نا، بھائی بولا سب خیریت ہے وہ اصل میں ماں جی پوچھ رہی ہیں کہ آپ کی طبیعت ناساز تھی اب کیسی ہے۔۔

   …….. اوہ میرے خدایا…

     اس روزمیرے ذہن میں ماں کی تعریف مکمل ہو گئی تھی۔ ماں وہ ہستی ہے جو اولاد کو تکلیف میں دیکھ کر اپنا دکھ،اپنا آپ  بھی بھول جاتی ہے۔

 

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?