قوم لوط کے کھنڈرات

4.2
(5)

اللہ کے عذاب کا شکار ہونیوالی قوم لوط کے برباد شہر کے کھنڈرات 5ہزار سال بعداردن  میں دریافت

تحقیق و ترتیب: ضیاالحق چوہدری

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے جنوبی اردن کے اس علاقے میں عالیشان عمارتیں تعمیر کر رکھی تھیں
ڈاکٹر سٹیون کولینز کی تصنیف جس میں سدوم کے کھنڈرات کی تمام تفصیل درج ہے

قوم لوط کی سیاہ  کاریوں  پر اللہ کے عذاب کے تذکرے قرآن مجید سمیت  تمام آسمانی کتب  میں موجودہیں مگریہ بات  ہزاروں سال تک پردہ راز میں  رہی کہ قوم لوط کہاں آباد تھی ۔آثار قدیمہ کے امریکی محققین  نے 10 سال کی طویل اور مسلسل محنت اور تحقیق کے بعد گزشتہ برس یہ دعویٰ کیا  کہ انہیں 5000 سال قبل اللہ کے عذاب کا شکار ہونے والی قوم لوط کے برباد شہر کےکھنڈرات ملے ہیں۔۔امریکی تحقیقی مشن کے سربراہ پروفیسرسٹیون کولنز کا کہنا ہےکہ ان کی تحقیق کا نتیجہ سامنے آیا تو وہ خود بھی حیران رہ گئے ۔قوم لوط کی نافرمانیوں سیاہ کاریوں  اور ان کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے نازل ہونیوالے عذاب کی تفصیلات قرآن مجید کی نو سورتوں میں مذکور ہیں۔ دیگر آسمانی کتب اور صحائف میں بھی قوم لوط کی تباہی کے تذکرے ملتے ہیں۔ قوم لوط کے مرد اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کیلئے عورتوں کے بجائے مردوں کی طرف غیر فطری  رغبت اور میلان رکھتے تھے۔ اس پر جلیل القدرپیغمبر حضرت لوط علیہ السلام انہیں منع کیا اور اللہ کی طرف سے سخت پکڑ کی وعید سنائی مگران کی قوم نے  ان کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر پتھروں کی بارش کردی۔ عذاب کے وقت صرف حضرت لوطؑ کے خاندان کے چند افراد اور کچھ رفقا ہی ز ندہ بچے، باقی سب اللہ کے عذاب کا شکار ہوگئے۔

اس خیالی تصویر میں حضرت لوط علیہ السلام لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف رہنمائی کر رہے ہیں

قرآن  مجیدکی سورۃ ‘العنکبوت’ کی آیت 35میں اللہ تعالیٰ نےقوم لوط کی تباہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قوم لوط پرعذاب نازل کیا گیا مگر ان کے تباہ شدہ شہر کو آنیوالے انسانوں کیلئے عبرت کے طورپر باقی رکھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ “ولقد تركنا منها آية بيّنة لقوم يعقلون” ( اور ہم نے اہل خرد کے لیے کچھ واضح نشانیاں باقی چھوڑ دیں)۔  قرآن مجید کی وضاحت کے باوجود قوم لوط کے تباہ  شدہ شہرکے بارے میں صدیوں  تک انسان کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پایا مگر امریکی ماہرین ارضیات وآثار قدیمہ اردن میں قوم لوط کےتباہ ہونے والے شہر کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔تورات میں بھی قوم لوط کی تباہی کا تذکرہ موجود ہے۔

جنوبی اردن میں حضرت لوط علیہ السلام کے زمانے کے سیدوم شہر کا تصوراتی خاکہ

تورات میں “سفر تکوین” میں مذکور ہے کہ “اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو آگ سے عذاب دیا”۔ امریکی محقق کولینز اور اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ “حقیقی معنوں میں قوم لوط کے شہرکی دریافت ایک گم شدہ خزانے کی دریافت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق سے ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ قوم لوط کے شہرمیں زندگی  یک دم ختم ہوگئی تھی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ تحقیق سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ شہر 5000 سال قبل برونزی دور میں تباہ ہوا تاہم برونزی سلطنت کےعلاقوں کے موجودہ نقشوں میں اس شہر کا کوئی وجود نہیں ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ سدوم شہر دو حصوں میں منقسم دکھائی دیتا ہے۔ ایک بالائی اور دوسرا زیریں حصہ ہے۔ شہر کے گرد مِٹی کی اینٹوں کی 10 میٹر اونچی اور 5.2 میٹر چوٹی دیوار بھی دریافت ہوئی ہے۔ شہرکے دروازوں کی باقیات بھی ملی ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ جب یہ شہر تباہ ہوا تو اس وقت بھی لوگ روز مرہ کے معمولات میں مشغول تھے مگر زندگی اچانک ہی ختم ہوگئی تھی۔ رہائش مکانات کیلئے مٹی کی اینٹیں استعمال کی گئی ہیں۔ آسمانی عذاب کے بعد 700سال تک اس علاقے میں کوئی  قوم آباد نہ ہوئی پھر بعض لوگ آہستہ آہستہ یہاں آ کر آبادہونا شروع ہو گئے۔

کھنڈرات سے ملنے والے لوط علیہ السلام کے زمانے کے برتنوں کے ٹکڑے

 قوم لوط پرعذاب سے متعلق آیات بینات تورات میں بیان کردہ روایات کے مطابق حضرت لوطؑ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ دونوں ایک ہی علاقے یعنی موجودہ رام اللہ کے قریب “بیت ایل” میں رہائش پذیر تھے۔ بعد ازاں حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہ السلام ایک دوسرے سے دور ہوگئے اور اپنے اپنے مویشیوں کو لے چل دیئے۔ حضرت لوط نے پانی وسبزے سے بھرپور مشرقی علاقے “ریانہ” کا رُخ کیا، جہاں پرانہوں نے “سدوم” اور “عمورہ” نامی شہر پائے۔ یہ دونوں شہر دریائے اردن کے کنارے کے پرواقع تھے۔ انہوں نے “سدوم” کو اپنا مسکن بنا لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قوم لوط کے جس شہر کو امریکی ماہرین نے دریافت کرنے کے بعد اس کے دو حصے بتائے ہیں۔

امریکی ماہرین آثار قدیمہ ڈاکٹر سٹیون کولینز دریافت ہونیوالے کھنڈرات میں
تورات کے مطابق سیدوم شہر پر آسمان سے آگ کے گولے برسائے گئے تھے

آج سے چودہ صدیاں قبل قرآن مجیدنے بھی اس کے دو حصوں کی نشاندہی کی تھی۔ سورۃ “ھود” کی آیات میں قوم لوط کے شہر کے دو حصوں کا ذکر ہے جہاں قرآن نے “ادناہ” (زیریں) کے لفظ میں اس کی وضاحت کی ہے۔ حضرت لوط جب “سدوم” میں پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو فواحشات میں ملوث پایا۔ پیغمبرؑ نے انہیں اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کی اصلاح کی کوشش شروع کردی۔ سورہ الشعراء کی  آیت 163 میں ہے کہ حضرت لوط نے اپنی قوم کو کہا کہ ” فاتقوا الله وأطيعون” (اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو) ۔ مگر انہوں نے حضرت لوط ؑکی بات ماننے سے انکار کردیا اور ان کا مقابلہ شروع کردیا۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ قوم لوط کے جواب کا ذکر کرتے ہیں۔ “قالوا لئن لم تنته يا لوط لتكونن من المخرجين”(انہوں نے کہا کہ اے لوط اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے یہاں سے نکال باہر کریں گے)۔ سورۃ الشعراء آیت 167۔ مگر لوط علیہ السلام اپنی بات پر قائم رہے اور کہا کہ “تأتون الفاحشة ما سبقكم بها من أحد من العالمين”(آپ لوگ ایک ایسی بے حیائی کے مرتکب ہو رہے ہیں جو تم سے پہلے پوری دنیا میں کسی نے نہیں کی)۔ سورۃ الاعراف۔ آیت 80۔ سورۃ العنکبوت ، آیت 28 میں حضرت لوط کو اپنی قوم کو ان الفاظ میں مخاطب کرتے بتایا گیا۔ “انكم لتأتون الرجال وتقطعون السبيل وتأتون في ناديكم المنكر”۔ (کیا تم (شہوت رانی کے لیے) مَردوں کے پاس جاتے ہو اور ڈاکہ زنی کرتے ہو اور اپنی مجلس میں ناپسندیدہ حرکتیں کرتے ہو)۔ اس کے جواب میں قوم لوط اپنے نبی کو چیلنج کرتی ہے کہ ” إئتنا بعذاب الله إن كنت من الصادقين”( اگرتو سچا پیغمبر ہے تو ہم پراللہ کا عذاب لا کردکھا)۔ سورہ العنکبوت ، آیت 29۔ سورۃ الشعراء میں ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نے اللہ سے فریاد کی ” رب نجني وأهلي مما يعملون” سورۃ الشعراء، آیت 169۔ (اے میرے پروردگار مجھے اور میرے اہل خانہ اس (برائی) سے نجات دے جس کا ارتکاب یہ لوگ کررہے ہیں)۔

دس سال تک جاری رہنے والی کھدائی سے دریافت ہونے والا سیدوم شہر جہاں قوم لوط آباد تھی

اس پراللہ تعالیٰ نے فرشتے حضرت لوط ؑکے پاس انہیں اطمینان دلانے کیلئے نازل کئے۔ فرشتوں نے حضرت لوط ؑسے کہا کہ ” وقالوا لا تخف ولا تحزن إنا منجوك”(آپ خوف زدہ نہ ہوں اور نہ غم کریں۔ آپ بچ جانے والوں میں ہیں)۔ سورۃ العنکبوت آیت 33۔ فرشتوں نے مزید بتایا کہ وہ کیا کرنے والےہیں۔ “قالوا إنا مهلكو أهل هذه القرية إن أهلها كانوا ظالمين”(ہم اہل بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں کیونکہ یہاں کے لوگ ظالم ہیں)۔ العنکبوت، آیت 31۔ فرشتوں نے کہا کہ “إنا منزلون على أهل هذه القرية رجزا من

ماہرین آثار قدیمہ کی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر سٹیون کولینز

السماء بما كانوا يفسقون”(ہم اس بستی پر اس کے مکینوں کے فسق وفجور کے باعث آسمان سے مصیبت نازل کرنے والے ہیں)۔ العنکبوت، آیت 34۔ سورۃ ھود میں ہے کہ “فلما جاء أمرنا جعلنا عاليها سافلها وأمطرنا عليها حجارة من سجيل منضود” پھر جب ہمارا (عذاب) کا حکم آیا تو ہم نے بستی کو تل پٹ کرکے رکھ دیا اور اس پر پکی مٹی کے پتھروں کی بارش کی جو تہہ در تہہ گرتے رہے)۔ ھود آیت، 82۔ سورہ الحجر میں ہے کہ “فأخذتهم الصيحة مشرقين” (پس انہیں طلوع آفتاب کے ساتھ ہی سخت کڑک نے پکڑ لیا)الحجر، آیت 73۔ اور سورۃ العنکبوت میں آیت 35 میں مذکور ہے کہ “ولقد تركنا منها آية بيّنة لقوم يعقلون” (اور ہم نے اس شہر کی کچھ نشانیاں اہل خرد کیلئے باقی چھوڑ دیں)

  تورات کی روایت کے مطابق قوم لوط پر آسمان سے آگ برسائی گئی۔ مگر قرآن کریم کی بیان کردہ روایات حالیہ تحقیق کے مطابق ہیں۔ کیونکہ اگر آگ کا عذاب نازل کیا گیا ہوتا تو اس شہر پرآج آگ کے آثار پائے جاتے۔ سورہ العنکبوت میں ہے کہ ایک پتھر(سیارہ) قوم لوط پر گرا۔ اس کے علاوہ بارش کے قطروں کی طرح اس پر پتھر برسائے گئے، جنہوں نے بستی کے اوپر کو نیچے کر دیا۔ پھر اس کے 50 صدیوں تک کیلئٍے مٹی کی دبیز تہہ بچھا دی۔

  تحریر پر اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔۔پسند آئے تو نیچے دئے گئے سٹار اور لائیک کے بٹنز پر کلک کریں اور اپنے سوشل میڈیا لنکس پر شیئر بھی کریں۔شکریہ

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?