ایک لطیفہ سنیئے۔

5
(1)

جہاز بندر کے کنٹرول میں

ایک چھوٹا مسافر طیارہ تباہ ہو گیا۔ طیارے میں سوار ایک بندر کے علاوہ تمام مسافر مارےگئے۔

حادثے کی تحقیقات ہوئیں،۔۔

بلیک باکس سے معلومات اکٹھی کی گئیں لیکن جہاز تباہ ہونے کی وجوہات کا پتہ نہ چلایا جا تھک ہار کے

اس نتیجے پہ پہنچا گیا کہ بندر کو ٹریننگ  دےکر اس قابل بنایا جائے کہ وہ تحقیقاتی کمیٹی کی مدد کرسکے۔

چند ہفتوں کی تگ و دو کے بعد بندر اس قابل ہو گیا کہ اشاروں کی زبان میں کسی بھی سوال کا جواب دے سکے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے بندر کو پیش کیا گیا۔

ایک آفیسر نے بندر سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اشاروں میں پوچھا کہ جب جہاز تباہ ہوا تو مسافر کیا کررہے تھے؟

اشاروں میں جواب ملا کہ کچھ سو رہے تھے، کچھ بات چیت میں مصروف تھےاور کچھ میگزین وغیرہ پڑھ رہے تھے۔

کمیٹی کے ارکان کا حوصلہ بندھا۔

دوسرا سوال ہوا کہ ائیر ہوسٹس کیا کر رہی تھیں۔

وہ میک اپ میں مصروف تھیں۔

کمیٹی کے ارکان نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔

اگلا سوال ہوا۔۔

جہاز تباہ ہونے سے پہلے پائلٹ کیا کررہےتھے؟

جواب ملا وہ سو رہے تھے۔۔

تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان ششدر رہ گئے۔۔

کچھ لمحوں بعد ایک اور سوال ہوا۔

آپ اس وقت کیا کر رہے تھے؟

بندر نے فخریہ انداز سے میز پہ پڑی عینک اٹھا کر پہنی، چہرے پر کِلر سمائل بکھیری اور دبنگ انداز میں جواب دیا کہ

“میں اس وقت جہاز چلا رہا تھا”

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?