میرے آنسو نہ رک سکے

0
(0)

“آج آپ سے بالکل میری امی جیسی خوشبو آ رہی ہے”

مس عائشہ ایک چھوٹے سے شہر میں پرائمری سکوں کی پانچویں جماعت کی ٹیچر تھیں۔ ان کی ایک عادت تھی کہ وہ ہمیشہ کلاس شروع ہونے سے پہلے سب بچوں کو” آئی لو یو “کہا کرتی تھیں۔ مگر وہ جانتی تھیں کہ وہ سچ نہیں کہتیں وہ کلاس میں سب بچوں سے یکساں پیار نہیں کرتی تھیں۔کلاس میں ایک ایسا بچہ بھی تھا جو مس عائشہ کو ایک آنکھ بھی نہیں بھاتا تھا۔اس بچے کا نام طارق تھا ۔وہ میلی کچیلی حالت میں سکول آجایا کرتا تھا۔اس کے بال بگڑے ہوتے ،جوتوں کے تسمے کھلے ہوتے ، قمیض کے کالر میل سے اٹے اور خاص طور پر لیکچر کے دوران اس کا دھیان کہیں اور ہوتا۔

مس عائشہ کے ڈانٹنے پر چونک کر وہ دیکھنے تو لگ جاتا مگر اس کی خالی اور بیابان نظروں سے انہیں محسوس ہو جاتا کہ طارق جسمانی طور پر تو کلاس میں ہے مگردماغی طور پر کہیں اور۔رفتہ رفتہ مس عائشہ کو طارق سے نفرت ہونے لگی۔کلاس میں داخل ہوتے ہی مس عائشہ طارق پر برسنے لگتیں۔ ہر بری مثال طارق کے نام سے منسوب کی جاتی۔بچے اس پر کھل کھلا کر ہنستے اور مس عائشہ اس کی تذلیل کر کے تسکین حاصل کرتیں۔طارق نے البتہ ان تمام باتوں کا کبھی کوئی جواب نہ دیا۔ مس عائشہ کو وہ ایک بے جان پتھر کی طرح لگنے لگا۔ اس کے اندر احساس نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔۔ہر ڈانٹ، طنز اور سزا کے جواب میں وہ بس اپنی جذبات سے عاری نظروں سے انہیں دیکھا کرتا۔اور سر جھکا لیا کرتا۔ مس عائشہ کو اب اس سے شدید چِڑ ہو چکی تھی۔

پہلا سمسٹر ختم ہوا اور رپورٹس بنانے کا مرحلہ آیا تو مس عائشہ نے طارق کی پراگریس رپورٹ میں اس کی تمام تر برائیاں لکھ ماریں۔پراگریس رپورٹ والدین کو بھجوانے سے پہلے ہیڈ مسٹریس کے پاس جایا کرتی تھی۔انہوں نے جب طارق کی رپورٹ دیکھی تومس عائشہ کو بلوایا۔ “مس عائشہ پراگرس رپورٹ میں کچھ تو پراگرس نظر آنی چاہیئے۔ آپ نے رپورٹ میں جو کچھ لکھا ہے اس سے طارق کے والدین اس سے بالکل بھی ناامید ہو جائیں گے”۔” میں معذرت خواہ ہوں مگرطارق بالکل ہی بد تمیز اور نکمابچہ ہے، مجھے نہیں لگتا کہ میں اس کی پراگریس رپورٹ میں کچھ اچھا لکھ سکتی ہوں۔مس عائشہ نفرت بھرے لہجے سے بولیں اور اٹھ کر چلی گئیں۔

ہیڈ مسٹریس نے ایک عجیب حرکت کی۔اس نے نائب قاصد کے ہاتھ طارق کی گزشتہ سالوں کی رپورٹس مس عائشہ کی میز پر رکھوا دیں۔اگلے دن مس عائشہ کلا س روم میں داخل ہوئیں تو ان کی نظر رپورٹ پر پڑی۔۔الٹ پلٹ کر دیکھا تو پتہ لگا کہ یہ سب طارق کی رپورٹس ہیں۔” پچھلی کلاسوں میں بھی اس نے یقیناً یہی گل کھلائے ہوں گے”۔انہوں نے سوچا اور کلاس تھری کی رپورٹ کھولی،رپورٹ میں ریمارکس پڑھ کر ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔رپورٹ تعریفوں سے بھری پڑی تھی۔ “طارق جیسا ذہین بچہ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔انتہائی حساس بچہ ہے اپنے دوستوں اور ٹیچر سے بےحد لگاو رکھتا ہے”۔

آخری سمیسٹر میں بھی طارق نے پہلی پوزیشن حاصل کر رکھی تھی۔مس عائشہ نے غیر یقینی کی کیفیت میں کلاس فور کی رپورٹ کھولی۔طارق نے اپنی ماں کی بیماری کا بے حد اثر لیا ہے۔اس کی توجہ پڑھائی سےہٹ رہی ہے۔”طارق کی ماں کو آخری سٹیج کا کینسر تشخیص ہوا ہے۔گھر پر اس کا کوئی اور خیال رکھنے والا نہیں جس کا گہرا اثر اس کی پڑھائی پر پڑ رہا ہے۔طارق کی ماں مر چکی ہے اور اس کے ساتھ ہی طارق کی زندگی کی رمق بھی۔۔اسے بچانا پڑے گا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے”۔ مس عائشہ پر لرزہ طاری ہو گیا۔کانپتے ہاتھوں سے انہوں نے طارق کی پراگرس رپورٹ بند کی۔آنسو ان کی آنکھوں سے ایک ایک کر کے گرنے لگے۔

اگلے دن جب مس عائشہ کلاس میں داخل ہوئیں تو انہوں نے عادت کے مطابق اپنا روایتی جملہ”آئی لو یو آل”دھرایا۔ مگر وہ جانتی تھیں کہ وہ آج بھی جھوٹ بول رہی ہیں۔کیوں کہ اسی کلاس میں بیٹھے ایک بے ترتیب بالوں والےبچے طارق کیلئےجو محبت وہ آج اپنے دل میں محسوس کر رہی تھیں۔وہ کلا س میں بیٹھےکسی دوسرے بچے کیلئے ہو ہی نہیں سکتی تھی۔لیکچر کے دوران انہوں نے حسب معمول ایک سوال طارق کی طرف داغا اور ہمیشہ ہی کی طرح طارق نے سر جھکا لیا۔جب کچھ دیر تک مس عائشہ کی طرف سے کوئی ڈانٹ پھٹکار اورہم جماعت ساتھیوں کی جانب سے ہنسی اور تضحیک کی آوازاس کے کانوں میں نہ پڑی تو اس نے اچھنبے میں سر اٹھاکر ان کی طرف دیکھا تو خلاف توقع ان کے ماتھے پر آج بَل نہیں تھے،وہ مسکرا رہی تھیں۔مس عائشہ کے تین چار دفعہ کے اصرارکے بعد بالآخر طارق بول پڑا،۔اس کے جواب دیتے ہی مس عائشہ نے نہ صرف خود پُر جوش انداز میں تالیاں بجائیں بلکہ باقی سب سے بھی بجوائیں۔پھر تو ہر روز کا معمول بن گیا۔مس عائشہ ہر سوال کا جواب اسے خود بتاتیں اور پھر اس کی خوب پذیرائی کرتیں۔ہر اچھی مثال طارق سے منسوب کی جانے لگی۔رفتہ رفتہ پراناطارق سکوت کی قبر پھاڑ کر باہر آگیا۔

اب مس عائشہ کوسوال کے ساتھ جواب بتانے کی ضرورت نہ پڑتی۔وہ روزبلا نقص صحیح جواب دے کر سب کومتاثر کرتا۔اور نت نئے سوال پوچھ کر سب کو حیران بھی کرتا۔اس کے بال اب کسی حد تک سنورے ہوئے ہوتے،کپڑے بھی کافی صاف ہوتے جنہیں شاید وہ خود دھونے لگا تھا۔دیکھتے ہی دیکھتے سال ختم ہو گیا۔اور طارق نے دوسری پوزیشن حاصل کر لی۔

الوداعی تقریب میں سب بچے مس عائشہ کیلئے خوبصورت تحفے تحائف لے کر آئےاور مس عائشہ کے ٹیبل پر ڈھیر کرنے لگے۔ان خوبصورتی سے پیک ہوئے تحائف میں پرانے اخبار میں بدسلیقہ طرز پرلپیٹا گیا ایک تحفہ بھی تھا۔بچے اسے دیکھ کر ہنس پڑے،کسی کو جاننے میں دیرنہ لگی کہ تحفے کے نام پر یہ چیز طارق ہی لایا ہوگا۔مس عائشہ نےتحائف کے اس چھوٹے سے پہاڑ میں سے لپک کراسے نکالا۔کھول کر دیکھا تو اس کے اندر ایک لیڈیز پرفیوم کی آدھی استعمال شدی شیشی اور ایک ہاتھ میں پہننے والا بوسیدہ سا کڑا تھا۔جس کے زیادہ تر موتی جھڑ چکے تھے۔مس عائشہ نے خاموشی کیساتھ اس پرفیوم کو خود پر چھڑکا اور کڑا ہاتھ میں پہن لیا۔بچے یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔خود طارق بھی۔آخر طارق سے رہا نہ گیا اورمس عائشہ کے قریب آکر کھڑا ہو گیا۔کچھ دیر بعد اس نے اٹک اٹک کر مس عائشہ کو بتایا کہ” آج آپ سےبالکل میری امی جیسی خوشبو آرہی ہے۔”

وقت پر لگا کر اڑنے لگا۔دن ہفتوں ۔۔ ہفتے مہینوں اورمہینے سالوں میں بدلتے بھلا کہاں دیر لگتی ہے۔؟

مگر ہرسال کے اختتام پرمس عائشہ کو طارق کی طرف سے ایک خط باقاعدگی کیساتھ موصول ہوتا۔جس میں لکھا ہوتا کہ “میں اس سال بہت سے نئے ٹیچرز سے ملامگر آپ جیسا کوئی نہیں”۔پھر طارق کا سکول ختم ہو گیا اور خطوط کا سلسلہ بھی۔کئی سال مزید گزرےاور مس عائشہ ریٹائر ہوگئیں۔ایک دن انہیں اپنی ڈاک میں طارق کا خط ملا جس میں لکھا تھا۔”اس مہینے کے آخر میں میری شادی ہےاور میں آپ کی موجودگی کے بغیرشادی کا سوچ بھی نہیں سکتا، ایک اور بات میں زندگی میں بہت سارے لوگوں سے مل چکا ہوں مگر آپ جیسا کوئی نہیں۔”فقط ڈاکٹر طارق۔

ساتھ ہی جہازکا ریٹرن ٹکٹ بھی لفافے میں موجود تھا۔ مس عائشہ خود کو کسی صورت نہ روک پائیں،انہوں نے شوہر سے اجازت لی اور طارق کے شہر روانہ ہو گئیں۔ عین شادی کے دن شای ہال پہنچیں تو تھوڑی لیٹ ہو چکی تھیں۔انہیں لگا کہ تقریب ختم ہو چکی ہو گی مگر یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ شہر کے بڑے بڑے ڈاکٹر،بزنس مین اور ممتازشخصیات یہاں تک کہ نکاح خواں بھی اکتایا ہوا کھڑا تھامگر طارق تقریب کی ادائیگی کی بجائے گیٹ کی طرف ٹکٹکی لگائے ان کی آمد کا منتظر تھا۔پھر سب نے دیکھا کہ جیسے ہی بوڑھی ٹیچر گیٹ سے داخل ہوئیں طارق ان کی طرف لپکا اور ان کا ہاتھ پکڑا جس میں انہوں نے اب تک وہ بوسیدہ کڑا پہنا ہوا تھا اور انہیں سیدھا سٹیج پر لے آیا۔ مائیک ہاتھ میں پکڑا اور کچھ یوں اعلان کیا۔”دوستو۔۔!۔ آپ سب ہمیشہ مجھ سے میری ماں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں نے سب سے وعدہ کیا تھا کہ جلد آپ سب کو ان سے ملواؤں گا۔۔یہ ہیں میری ماں”۔۔

معزز قارئین۔!۔۔اس خوبصورت کہانی کو محض استاد اور شاگرد کے رشتے تک ہی محدود کر کے مت سوچیئےگا۔۔۔اپنے آس پاس دیکھئے۔۔طارق جیسے کئی پھول مرجھا رہے ہیں،۔ جنہیں آپ کی ذرا سے توجہ۔ محبت اور شفقت نئی زندگی دے سکتی ہے۔۔ماخوذ۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?