دھرتی کا بوجھ

0
(0)

جسٹس منیر اور اس کی نظریاتی اولاد

ریڈ کلف ایوارڈ کمیشن کے ارکان، بیٹھے ہوئے بائیں طرف آخری جسٹس منیر

ہندوستان کے شہر پٹیالہ میں تین مئی 1895 کو ایک ایسےبوجھ نے جنم لیا جس نے پاکستان کے عدل کی تاریخ کو داغدار کرنا تھا، دنیا اسے جسٹس منیر کے نام سے جانتی ہے۔ پاکستان میں انصاف اور عدلیہ کی تاریخ میں دوسرے چند ناموں کیساتھ ایک سیاہ نام اور سیاہ چہرہ جسٹس محمد منیر کابھی ہے۔ وہ ریڈ کلف ایوارڈ جس نے سرحد کی حد بندیوں میں پاکستان کے ساتھ کھلی بے ایمانی کی، جسٹس منیر اس کمیشن کا حصہ تھا۔ کسی ایک زیادتی پر بھی اس کی غیرت اسے کمیشن سے الگ ہونے پر مجبور نہ کرسکی۔ ان گنت پاکستانی علاقے بھارت کے سپرد ہوئے مگر جسٹس منیر بے شرموں کی طرح اس ایوارڈ کا حصہ رہا۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد اس کے حقائق جاننے کیلئے جو کمیشن بنا اس کی سربراہی بھی جسٹس منیر کے حصے میں آئی۔ کمیشن نے اس افسر کو شاباشی دے کر بری کردیا جس نے قاتل سید اکبر کو اس وقت 5 گولیاں ماریں جب قاتل لوگوں کی گرفت میں آکر غیر مسلح ہوچکا تھا۔۔گورنر جنرل غلام محمد نے گھناونی سازش کرکے سب سے سینئر بنگالی جج جسٹس اے ایس ایم اکرم اور دوسرے تیسرے نمبر پر ججوں ایم شہاب الدین اور اے آر کارنیلس کو نظر انداز کرکے جسٹس منیر کو چیف جسٹس پاکستان بنایا۔ دھرتی کا یہ بوجھ 29 جون 1954 سے 2 مئی 1960 تک پاکستان کی عدلیہ کا سربراہ رہا۔ جسٹس منیر کچھ عرصہ ڈکٹیٹر ایوب خان کی کابینہ میں وزیرِ قانون بھی رہا۔ جسٹس منیر کا وہ فیصلہ آج بھی عدل اور عدالت کہ منہ پر کالک سمجھا جاتا ہے جس میں اس نے 1954ء میں غلام محمد کے دستور ساز اسمبلی کے توڑے جانے کو “نظریہ ضرورت” کا سہارا لیتے ہوئے جائز قرار دیا تھا۔۔جسٹس منیر نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد خود اعتراف کیا تھا کہ اس کا “نظریہ ضرورت” کا فیصلہ دباؤ کا نتیجہ تھا۔ دھرتی کا یہ بوجھ 26 جون 1981 کو دھرتی کی مٹی تلے دفن ہوگیا اور اپنی کالک ہمیشہ کیلئے پیچھے چھوڑ گیا، جسے بہت سے جج بڑے شوق سے اپنے چہرے پر مل رہے ہیں اور بہت سے جج جسٹس منیر بننے کیلئےہر وقت تیار بیٹھے ہیں۔یہ تحریر پڑھنے کے بعد یقیناً آپ کے ذہن میں ماضی قریب کے کچھ ثاقب “ناسوروں” کے نام بھی آرہے ہوں گے۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?