دماغ کی فریکوئنسی

0
(0)

انسانی زندگی ،شخصیت اور ماحول پردماغ کی مختلف فریکوئنسیز کے اثرات

شہریار مدنی ۔۔بائیو سائنسز ڈیپارٹمنٹ، کامسیٹس یونیورسٹی،اسلام آباد

انسانی دماغ خالق کائنات کی حیر ت انگیز تخلیق ہے۔ یہ فزیکل بھی ہے اور میٹا فزیکل بھی۔ وجود اور تخیل و ادراک یعنی دونوں طرح کی دولتوں سے مالا مال ہے۔

ماہرین نے اس کی مختلف کیفیتوں کی درجہ بندیاں کر رکھی ہیں۔یہاں ہم کچھ نمایاں کیفیات کا تذکرہ کرتے ہیں۔

ایلفا سٹیٹ آف مائنڈ

بیٹا سٹیٹ آف مائنڈ

تھیٹا سٹیٹ آف مائنڈ

ڈیلٹا سٹیٹ آف مائنڈ

گیما سٹیٹ آف مائنڈ

عام طور پر ہمارے دماغ کی فریکوئینسی 14 سے30ہرٹزہوتی ہے۔ ہم تقریبا سارا دن اپنے دماغ کو اس فریکوئنسی پر چلاتے ہیں۔ دماغ کی اس فریکوئنسی کے ساتھ ہم بات چیت کرتے ہیں، کام کرتے ہیں، جذبات کاا ظہار کرتے ہیں اور ضروری سوچ بچار کرتے ہیں۔ دماغ کی اس فریکوئنسی کو بیٹا سٹیٹ آف مائنڈکہتے ہیں۔ اور اس حالت میں ذہن سے نکلنے والی شعاوں کو بیٹا ویوز کہتے ہیں۔ جب دن کے کسی حصے میں ہم اپنے خیالوں میں کھوئے ہوئےہوں، کوئی بات یا کوئی واقعہ سوچ رہے ہوتے ہیں غنودگی کی کیفیت ہو یا نیند آرہی ہو تو اس وقت ہمارے دماغ کی فریکوئینسی کم ہو کرآٹھ سےچودہ ہرٹزہو جاتی ہے۔دماغ کی اس کیفیت کوایلفا سٹیٹ آف مائنڈکہتے ہیں اور اس کیفیت میں نکلنے والی شعاوں کو ایلفا ویوز کہتے ہیں۔ہلکی نیند کی کیفیت کو تھیٹا سٹیٹ آف مائنڈ کہتے ہیں اور اس کی فریکوئنسی چارسے آٹھ کے درمیان ہوتی ہے، اسی فریکوئنسی میں خواب بھی آتے ہیں۔گہری نیند کی فریکوئنسی ایک سے چار کے درمیان ہوتی ہے ۔اس فریکوئنسی کو ڈیلٹا سٹیٹ آف مائنڈ کہتے ہیں اور اس میں کوئی خواب نہیں آتا ۔آپ نےاکثر محسوس کیا ہو گا کہ جب آپ اپنے خیالوں میں کھوئے کسی دوست یا چاہنے والے کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں تواچانک اسی وقت اس کی کال آ جائے یا میسج آ جاتا ہے۔

Beta State of Mind

ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ اس وقت آپ کا ذہن ایلفا سٹیٹ آف مائنڈ میں ہوتا ہے۔ اس فریکوئینسی کی شعاوں میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ ہزاروں میل دور بھی ایک پل میں پہنچ جاتی ہیں اور کسی کے دماغ یا سوچ میں بھی داخل ہو سکتی ہیں۔ جب آپ اپنے خیالوں میں گم کسی کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کی سوچ کی فریکوئنسی اس کے دماغ میں داخل ہوتی ہے اور اسے آپ کا خیال آتا ہے، تو وہ آپ کو کال یا میسج کرتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ آپ غصے میں کسی کے بارے میں سوچیں اور اچانک اس کی کال آ جائے۔ کیونکہ غصے کی کیفیت میں دماغ بیٹا سٹیٹ آف مائنڈمیں ہوتا ہے۔

مراقبہ کرنے والے بھی اپنے ذہن کو ایلفا سٹیٹ آف مائنڈ میں لے کر جاتے ہیں تاکہ وہ مراقبہ کی دنیا میں داخل ہو سکیں۔ یہ فریکوئنسی ہمیں دوسری دنیا سے روشناس کراتی ہے، وہ چیزیں جو ظاہری آنکھ سے نہیں دیکھی جا سکتیں، اس ذہنی کیفیت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ الہام بھی اسی فریکوئنسی میں ہوتا ہے، چھٹی حس بھی اسی فریکوئنسی میں کام کرتی ہے اور کشف بھی اسی فریکوئنسی میں ظاہر ہوتا ہے۔ اور روحانی علاج، رحمانی مدد یا وجدان بھی اسی فریکوئنسی میں ملتی ہے۔اور روحانی دنیا کے عجائبات بھی اسی ذہنی کیفیت میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ کسی کو اختیاری طور پر نظر نہیں لگائی جا سکتی۔ یہ نظر بھی تب ہی لگتی ہے جب کوئی اس فریکوئنسی پر کسی کے بارے میں سوچے۔ اکثر ہم خود بھی خاموشی سے اپنے بچوں کو کھیلتا دیکھ رہے ہوتے ہیں تو ہماری اپنی نظر انہیں لگ جاتی ہےیہ نظر بھی اسی ایلفا سٹیٹ آف مائنڈ سے لگتی ہے ۔اگر ہم ایلفا سٹیٹ آف مائنڈمیں رہنا اور جینا سیکھ لیں تو ہمیں یہ سب فائدے ہو سکتے ہیں۔ ذہنی دباو نہیں ہو گا،ڈیپرشن نہیں ہو گا،غصہ نہیں آئے گا۔ سر درد نہیں ہو گا، دماغ ترو تازہرہے گا۔ اور ظاہر ہے دماغ فریش رہے گا تو جسم بھی فریش رہے گا۔ بیماریاں کم آئیں گی۔آپ روز مرہ کے کسی کام میں کنفیوز نہیں ہوں گے۔باطنی سکون ملے گا، جس سے آپ ہمیشہ صحیح فیصلے کریں گے۔ لوگوں کی نیتیں اور ارادے ایک حد تک آپ پر ظاہر ہوں گے۔ اور آپ کبھی دھوکا نہیں کھائیں گے۔آپ کی چھٹی حس تیز ہو گی اور کافی باتیں آپ کو وقت سے پہلے ہی پتا چل جایا کریں گی۔نت نئے آئیڈیازآپ کے ذہن میں آئیں گے، کسی مسئلے کا حل تلاش کرنے میں مشکل نہیں ہو گی۔آپ جو کام بھی کریں گے آپ کو خود پر بہت اعتماد ہو گا۔

Alpha State of Mind

آپ جو بھی بات کریں گے وہ سیدھا لوگوں کے دل میں اترے گی۔ اس فریکوئنسی کی سوچ “پر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے”کی مانند ہے۔آپ کی استعداد اور ظرف بڑھے گا۔ چھوٹی چھوٹی باتیں آپ کو تنگ یا ڈسٹرب نہیں کریں گی۔آپ کا روحانی دنیا سے اور اپنے رب سے بہت اچھا تعلق بنے گا، آپ کو زندگی اور عبادات کا اصل لطف ملے گا۔ آپ اپنے آپ کو اللہ کے قریب محسوس کریں گے۔

دماغ کی یہ فریکوئنسی کیسے حاصل کی جائے ؟

اپنے جسم اور ذہن کو ڈھیلا چھوڑیں۔ آپ کے پٹھے ڈھیلے ہوں گے جسم ریلیکس ہو گا۔ پھر اپنے ذہن کو مزید ڈھیلا چھوڑیں آپ کو محسوس ہو گا کہ آپ کے ذہن سے گرمی نکل کر ہوا میں اڑ رہی ہے اور دماغ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ دماغ میں ہلچل کم ہو رہی ہے اور سکوت ہو رہا ہے۔ neurons کی حرکت آہستہ اور پرسکون ہو رہی ہے۔ جب دماغ ٹھنڈا اور پر سکون محسوس ہو اور مختلف سوچوں سے دماغ خالی ہو جائے تو بس یہی ایلفا سٹیٹ آف مائینڈ ہے آپ کو ہلکی سی غنودگی بھی محسوس ہو سکتی ہے۔غصہ نہیں کرنا،اونچا نہیں بولنا،ٹینشن نہیں لینی،شدت کیساتھ جذبات کا اظہار نہیں کرنا۔آپ کچھ دن کی محنت سے اس حالت کو برقراررکھنا سیکھ لیں تو پھر خود ہی آپ کا غصہ، ٹینشن، بے سکونی بے خوابی سب مسئلے حل ہو جائیں گے۔ اورآپ کو اپنی زندگی ایک اعلیٰ مقام پر محسوس ہونے لگے گی ۔

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?