ترکی کا جنرل پاشا

5
(1)

ارطغرل غازی کے بیٹےعثمان اول نے1299میں اناطولیہ ( ترکی ) میں جس عالی شان سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی 623 سال بعد 1922 میں اپنے دردناک انجام کوپہنچی۔سلطنت عثمانیہ کی تباہی اور معاہدہ لوزیانو کی الگ داستانیں ہیں۔ یہاں بات کرتے ہیں کہ عثمانی خاندان کے 36 ویں خلیفہ اورآخری تاجدار سلطان وحید الدین محمد ششم، ملکہ ، شہزادوں ،شہزادیوں اورآخری خلیفہ (37ویں) عبدالمجید دوم اور خاندان کے دوسرے سینکڑوں افراد کا کیا انجام ہوا۔۔؟1923 میں عثمانی ترک فوج کے نویں کور کے کمانڈر جنرل مصطفیٰ کمال پاشا نے اقتدار پر قبضہ کر کے ارطغرل غازی کی آل اولاد پر ترک سرزمین تنگ کر دی اور خلافت کا باضابطہ خاتمہ کر کے آخری تاجدار سلطان وحید الدین ،آخری خلیفہ عبدالمجید دوم اور شاہی خاندان کے تمام افراد کو راتوں رات گھریلو لباس میں خالی جیب ہی بحری جہاز پر بٹھا کر مختلف یورپی ممالک میں جلاوطن کر دیا۔

ملکہ اور شہزادوں نے التجا کی کہ ہمیں یورپ میں یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاتھوں ذلیل و رسوا کرنے کی بجائے اردن، مصر، شام یا کسى دوسرے عرب علاقے بھیج دیا جائے لیکن طاقت واقتدار کے نشے میں دھت جنرل پاشا کیلئےصہیونی آقاؤں کی احکامات کی سرتابی ممکن نہ تھی، اور مغربی آقاؤں کی خوشنودی کیلئے وہ خاندان خلافت کو آخری حد تک ذلیل کرنے پر تلا ہوا تھا۔جنرل پاشا نے تمام شاہی املاک ضبط کر کے بادشاہ سلطان وحید الدین اور ملکہ کو فرانس جلا وطن کر دیا۔ جبکہ شہزادے اور شہزادیوں میں سے کسی کو یونان میں یہودیوں کے مسکن سالونیک اور کسی کو اٹلی پہنچا د یا گیا

ہفت اقلیم سے کاسۂ گدائی تک۔۔

مورخ لکھتا ہے کہ خلیفۃ المسلمین اورعظیم عثمانی سلطنت کے آخری تاجدار سلطان وحید الدین کے شہزادے گزر اوقات کیلئے منھ چھپا کر پیرس کی گلیوں میں کاسۂ گدائی لیے پھرتے تھے کہ کوئی انھیں پہچان نہ پائے،1926میں جب سلطان وحید الدین کی وفات ہوئی تو اطالوی حکومت نے ان کا جسد خاکی لواحقین کے حوالے کرنے سے اس لئے انکار کردیا کہ اس شاہی خاندان نے بہت سے دکانداروں سے ادھار لے رکھا تھا اوررقم کی ادائیگی تک خاندان والے میت وصول نہیں کر سکتے تھے، بالآخراٹلی میں مقیم مسلمانوں نے چندہ اکٹھا کرکے سلطان کا قرض ادا کیا اور ان کی میت کو واگزار کرا کے شام روانہ کیا اور آج وہ دمشق میں آسوۂ خاک ہیں۔۔

ملکہ اور شہزادوں کی واپسی۔۔

بیس سال بعد فوجی آمریت اور جبر کے کالے بادل چھٹتے دیکھ کر ترکی کے پہلے منتخب وزیر اعظم عدنان مندریس نے جسارت کی کہ جلاوطن شاہی خاندان کی خبرگیری کی جائے۔ چنانچہ بحیثیت وزیر اعظم وہ شاہی خاندان کی تلاش کیلئے اٹلی گئے وہاں سے انہیں معلوم ہوا کہ شاہ کی وفات کے بعد ملکہ اور شہزادی فرانس ہجرت کر گئے ہیں ،طویل تلاش کے بعد وزیر اعظم عدنان مندریس پیرس کے نواح میں ایک چھوٹے سے گاؤں پہنچے وہاں ایک کارخانے میں داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ خلیفہ عبد الحمید دوم کی زوجہ پچاسی سالہ ملکہ شفیقہ اور ان کی بیٹی ساٹھ سالہ شہزادی عائشہ اس کارخانے میں نہایت معمولی اجرت پر برتن مانجھ رہی ہیں، ۔ یہ دیکھ کر مندریس کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور زار وقطار رونے لگے، پھر ان کا ہاتھ چوم کر کہنے لگے ۔

“مجھے معاف کردیجیئے، مجھے معاف کردیجیئے”

شہزادی عائشہ نے پوچھا :آپ کون ہیں؟”

کہنے لگے میں ترکی کا وزیر اعظم عدنان مندریس ہوں،اتنا سننا تھا کہ وہ چلّا اٹھیں: اب تک کہاں تھے؟ اور مارے خوشی کے غش کھا کرگر پڑیں، ۔۔

عدنان مندریس انقرہ واپس آئے تو انہوں نے کمال اتا ترک کے دوست اور اس وقت کے ترک صدر جلال بایار سے کہا کہ ميں آل عثمان کیلئے معافی نامہ جاری کرنا چاہتا ہوں، اور اپنی ماؤں اور بہنوں کو واپس لانا چاہتا ہوں، بیار نے شروع میں تو اعتراض کیا، مگر مندریس کے مسلسل اصرار پر صرف خواتین کو واپس لانے کی اجازت دیدی، پھر عدنان مندریس خود فرانس گئے اور ملکہ شفیقہ اور شہزادی عائشہ دونوں کو ترکی واپس لے آئے، ۔ مگر شہزادوں کیلئے معافی نامہ جاری کرکے ان کو اپنے وطن عزیز ترکی لانے کا سہرا مرحوم صدر نجم الدین اربکان کے سر جاتا ہے جب وہ وزیر اعظم کے منصب پر فائز تھے۔

وزیر اعظم عدنان کی پھانسی۔۔!

ترک جرنیلوں کو وزیر اعظم عدنان مندریس کی یہ باتیں پسند نہ آئیں اور1960 میں انہیں برطرف کر کے گرفتا رکر لیا۔ فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور17ستمبر1961 کو پھانسی دیدی گئی۔۔:فرد جرم میں شامل دیگردفعات کے مطابق۔۔

عدنان مندریس نے عربی زبان میں اذان اور نماز پر جنرل مصطفیٰ کمال پاشا کی لگائی ہوئی پابندی کو ختم کر دیا تھا اور30 سال سےحج پرعائد پابندی بھی اٹھا لی تھی۔

فوجیوں نے وزیر اعظم مندریس پریہ الزام بھی لگایا کہ وہ ملکہ اور شہزادی سے ملاقات کرتے رہے، ان کے ہاتھ چومتے، اور اپنی ذاتی جیب سے ان کا خرچہ بھی ادا کرتے۔جس دن فوجی عدالت کے ذریعے وزیر اعظم عدنان مندریس کو شہید کیا گیا اس کے اگلے ہی روز ملکہ اور شہزادی دونوں سجدے کی حالت میں دم توڑ گئیں۔

کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔۔!

ارطغرل غازی سے شروع ہونیوالی داستان ابھی ختم نہیں ہوئی۔ دنیا دیکھ چکی ہے کہ ترکی کی غیور اور جرآت مند عوام نے15جولائی 2016 کوکمال اتا ترک کے چیلوں اور اقتدار کے نشے میں بدمست مغرب کے خایہ بردار جرنیلوں کوشکست فاش دے کر انہیں استنبول کی سڑکوں پر گھسیٹا۔ کئی ایک کو سرعام پھانسیاں دی گئیں اور بہت سے کال کوٹھڑیوں میں گل سر رہے ہیں۔ فوج کو بیرکوں تک محدود کر کے ثابت کر دیا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔فوج کا کام حکومت یا کاروبار کرنا نہیں صرف منتخب سول قیادت کے حکم پر ارض وطن کا دفاع ہے۔

2023 آنے کو ہے۔۔ سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے سو سال مکمل ہونے پرترکی معاہدہ لوزیانو سے آزاد ہو جائے گا۔ اور اسی وقت اور خوف سے عالم کفر لرزاں ہے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ضیأالحق چوہدری

آپ کی آرا اور تبصروں کا خیر مقدم کیا جائے گا۔۔

کمنٹس لنک میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کیجیئے

How useful was this post?

Click on a star to rate it!

As you found this post useful...

Follow us on social media!

We are sorry that this post was not useful for you!

Let us improve this post!

Tell us how we can improve this post?